مس شدہ کپڑے سے حصولِ برکت
1۔ مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اﷲ عنہا کا وصال ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تجہیز و تکفین کے لئے خصوصی اہتمام فرمایا، غسل کے بعد جب انہیں قمیص پہنانے کا موقعہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کرتہ مبارک عورتوں کو عطا فرمایا اور حکم دیا کہ یہ کرتہ انہیں پہنا کر اوپر کفن لپیٹ دیں۔
طبرانی، المعجم الکبير، 24 : 351، رقم : 871 طبرانی، المعجم الاوسط، 1 : 67، رقم : 189 ابن عبدالبر، الاستيعاب، 4 : 1891، رقم : 4052 ابونعيم، حلية الاولياء، 3 : 121 ابن جوزی، العلل المتناهية، 1 : 269، رقم : 433 ابن جوزی، صفوة الصفوة، 2 : 54 ابن اثير، اسد الغابه، 7 : 213 سمهودی، وفاء الوفاء، 3 : 8 - 897 عسقلانی، الاصابه فی تمييز الصحابه، 8 : 60، رقم : 11584 هيثمی، مجمع الزوائد، 9 : 256
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے کرتہ عطا فرمانے کا مقصد یہی سمجھ میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ وہ اس کے فیوض و برکات سے مستفید ہوجائیں۔ 2۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی تکفین کے لئے اپنا مبارک ازاربند عطا فرمایا۔
بخاری، الصحيح، 1 : 423، کتاب الجنائز، رقم : 1196 مسلم، الصحيح، 2 : 646، کتاب الجنائز، رقم : 939 ابو داؤد، السنن، 3 : 197، کتاب الجنائز، رقم : 3142 نسائی، السنن، 4 : 30، 31، 32، کتاب الجنائز، رقم : 1885، 1886، 1890 ترمذی، الجامع الصحيح، 3 : 315، ابواب الجنائز، رقم : 990 ابن ماجه، السنن، 1 : 468، کتاب الجنائز، رقم : 1458 مالک، المؤطا 1 : 222، رقم : 520 احمد بن حنبل، المسند، 5 : 84 احمد بن حنبل، المسند، 6 : 407، رقم : 27340 حميدی، المسند، 1 : 174، رقم : 360 ابن حبان، الصحيح، 7 : 304، 302، رقم : 3033، 3032
صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استعمال شدہ کپڑوں کو کفن بنایا 3۔ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، ایک خاتون نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں ایک چادر پیش کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ زیب تن فرمائی تو ایک شخص نے عرض کیا : یا رسول اﷲ صلی اﷲ علیک وسلم! کتنی حسین چادر ہے، مجھے عنایت فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عنایت فرمائی۔ حاضرین میں سے بعض نے اس کو اچھا نہیں سمجھا اور چادر مانگنے والے کوملامت کی کہ جب تمہیں معلوم تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی سائل کو واپس نہیں لوٹاتے تو تم نے یہ چادر کیوں مانگی؟ اس شخص نے جواب دیا :
إنّی واﷲ ماسألته لألبسها، إنما سألته لتکون کفنی. قال سهل : فکانت کفنه.
بخاری، الصحيح، 1 : 429، کتاب الجنائز، رقم : 1218 بخاری، الصحيح، 2 : 737، کتاب البيوع، رقم : 1987 بخاري، الصحيح، 5 : 2189، کتاب اللباس، رقم : 5473 بخاري، الصحيح، 5 : 2245، کتاب الأدب، رقم : 5689 نسائي، السنن الکبریٰ، 5 : 480، رقم : 9659 بيهقي، السنن الکبریٰ، 3 : 404، رقم : 6489 عبد بن حميد، المسند، 1 : 170، رقم : 462 طبراني، المعجم الکبير، 6 : 143، 169، 200، رقم : 5785، 5887، 5997 بيهقي، شعب الايمان، 5 : 170، رقم : 6234 قرشي، مکارم الاخلاق، 1 : 114، رقم : 378 ابن ماجه، السنن، 2 : 1177، کتاب اللباس، رقم : 3555 احمد بن حنبل، المسند، 5 : 333، رقم : 22876 ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 1 : 454
’’خدا کی قسم میں نے یہ چادر اس لئے نہیں مانگی کہ اسے پہنوں۔ میں نے (تو اس کی برکت کی امید سے) اس لئے مانگی ہے کہ یہ مبارک چادر میرا کفن ہو۔ حضرت سہل فرماتے ہیں : کہ یہ مبارک چادر بعد میں ان کا کفن بنی۔‘‘
یعنی اس خوش بخت صحابی رضی اللہ عنہ کو ان کی خواہش کے مطابق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک چادر میں کفن دے کر دفنایا گیا۔ 4۔ حضرت عبداللہ بن سعد بن سفیان غزوہ تبوک میں شہید ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنے مبارک قمیص کا کفن پہنایا۔
ابن اثير، اسد الغابه، 3 : 262 عسقلاني، الاصابه في تمييز الصحابه، 4 : 111، رقم : 4715
5۔ حضرت عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب بن ہاشم فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اپنی مبارک قمیص کا کفن پہنا کر دفن کیا، اور فرمایا : ھذا سعید ادرکتہ سعادۃ ’’یہ خوش بخت ہے اور اس نے اس سے سعادت حاصل کی ہے۔‘‘
ابن اثیر، اسد الغابہ، 3 : 207 ابن عبدالبر، الاستیعاب، 3 : 884، رقم : 1496 عسقلانی، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، 4 : 47، رقم : 4605 ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، 4 : 48
6۔ حضرت عبداﷲ بن ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ جب فوت ہوئے تو
دفنه النبی صلی الله عليه وآله وسلم في قميصه.
عسقلاني، الاصابة في تمييز الصحابة، 4 : 29، رقم : 4575
’’حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اپنے قمیص مبارک میں دفن کیا۔‘‘
ان روایات سے معلوم ہوا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک لباس میں اللہ تعالیٰ نے برکت رکھی تھی کہ نہ صرف دنیا میں لوگ اس کے اثر سے فیض یاب ہوتے رہے بلکہ بعد از وفات بھی اس کی برکات سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا رہا ہے اور رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو لباس زیب تن فرمایا، نسبتِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے وہ بھی عام کپڑا تھا مگر جسد اطہر کے ساتھ منسوب ہونے کی وجہ سے وہ مشرف و متبرک ہوگیا۔ اسی لئے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم خواہش رکھتے تھے کہ انہیں کفن کے لئے کوئی ایسا کپڑا میسر آئے جس کی جسد اطہر کے ساتھ کچھ نہ کچھ نسبت ہو۔ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعض صحابہ کو ایسے با برکت کپڑے عنایت فرما کر خود اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ تبرکات صالحین سے برکت حاصل کرنا جائز اور مشروع ہے۔
Related Articles

منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام
منقبت بحضور شہیدِ کربلا سیدنا امام حسین علیہ السلام: ہو نہیں سکتی قمر سے مِدحتِ شانِ حسین، جب کہ ہے ربِ محمد خود ثنا خواںِ حسین، راقبِ دُوشِ نبی اور نورِ چشم مرتضی ، اللہ اللہ یہ وقارِ عظمتِ شانِ حسین، اُن کے خوں سے ہو گ


