
عمرہ کے فضائل
عمرہ کے فضائل عُمرہ پر جانے والے حضرات کے لئے ایک دفعہ پڑھنا بہت فائدہ دے گا کیونکہ اس میں عُمرہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کا آسان انداز میں طریقہ سمجھایاگیا ہے جو کسی نے نہیں سمجھایا ہو گا۔ 1۔ یکے بعد دیگرے حج و عمرہ کرت

عمرہ کے فضائل عُمرہ پر جانے والے حضرات کے لئے ایک دفعہ پڑھنا بہت فائدہ دے گا کیونکہ اس میں عُمرہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کا آسان انداز میں طریقہ سمجھایاگیا ہے جو کسی نے نہیں سمجھایا ہو گا۔ 1۔ یکے بعد دیگرے حج و عمرہ کرت
جواب : 8 ذوالحجہ کو حج کی عبادات کا آغاز ہوتا ہے، اسے ’’یوم التّرویہ‘‘ کہتے ہیں۔
جواب : 9 ذوالحجہ کو میدان عرفات میں حج ہوتا ہے، اسی نسبت سے اس دن کو یومِ عرفہ کہتے ہیں۔
جواب : 10 ذوالحجہ کو، جس دن قربانی کی جاتی ہے، اسے یومِ نحر کہتے ہیں
جواب : 9 ذوالحجہ کی فجر سے 13 ذوالحجہ کی عصر تک کے ایّام، ایامِ تشریق کہلاتے ہیں۔ ان دنوں میں ہر فرض نماز باجماعت پڑھنے کے بعد تکبیرِ تشریق پڑھی جاتی ہے، تکبیر تشریق یہ ہے : اﷲُ اَکْبَرُ اﷲُ اَکْبَرُ لَا اِلٰه اِلَّا اﷲُ
جواب : 9 ذوالحجہ کو عرفات میں ٹھہرنا، خشیتِ الٰہی اور خالص نیت سے ذکر، لبیک، دعا، درود و سلام، استغفار میں مشغول رہنا، نماز ظہر و عصر ادا کرنا اور نماز سے فراغت کے بعد بالخصوص غروبِ آفتاب تک دعا میں اپنا وقت گزارنے کو وق
جواب : منیٰ میں واقع تین جمرات (یعنی شیاطین) پر کنکریاں مارنے کو رَمِیْ کہتے ہے۔ ان میں سے پہلے کا نام جمرۃ الاخریٰ یا جمرۃ العقبہ ہے۔ اسے عوام الناس بڑا شیطان کہتے ہیں۔ دوسرے کو جمرۃ الوسطیٰ (منجھلا شیطان) اور تیسرے کو
جواب : وہ جانور جسے حج یا عمرہ کرنے والا اپنی طرف سے قربانی کے لئے وقف کرے اسے ھَدِی کہتے ہیں۔
جواب : رمی سے فارغ ہو کر قربانی کے بعد قبلہ رو بیٹھ کر حاجی کے لئے سارا سر منڈانا حلق کہلاتا ہے۔ حلق کروانا افضل ہے۔ جیسا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اَلل
جواب : رمی سے فارغ ہو کر قربانی کے بعد سر منڈانے کی بجائے بالوں کو کتروانے یعنی بال چھوٹے کرانے کی بھی اجازت ہے، یہ عمل تقصیر کہلاتا ہے۔ لیکن حلق، تقصیر کی نسبت زیادہ افضل ہے۔ خواتین پر حلق اور قصر دونوں نہیں، بلکہ وہ ان
جواب : کعبہ یا بیت ﷲ مقاماتِ حج میں سے سب سے عظیم مقام ہے۔ اسی کا حج اور طواف کیا جاتا ہے اور وہ مسجد جس میں ﷲ تعالیٰ کا یہ گھر واقع ہے، اسے مسجدِ حرام کہتے ہیں۔
جواب : کعبۃ ﷲ کے چار رُکن درج ذیل ہیں : رکنِ اَسود : یہ حرمِ کعبہ کا جنوب مشرقی کونہ ہے، جہاں حجر اسود نصب ہے۔ رکنِ عراقی : یہ حرم کعبہ کا شمال مشرقی کونہ ہے، جہاں بابِ کعبہ ہے، جو اپنی دو رکنوں کے درمیان کی شرقی دیوار م
جواب : یہ ایک جنتی پتھر ہے، جو خانہ کعبہ میں نصب ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نَزَل الْحَجرُ الْاَسْوَدُ مِنَ الْجَنَّة وَهوَ اَشَدُّ بَي
جواب : مشرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکنِ اسود سے بابِ خانہ کعبہ تک ہے۔ ملتزم کہلاتا ہے۔ طواف کے بعد مقام ابراہیم پر نماز و دعا سے فارغ ہو کر حاجی یہاں آ کر اس سے لپٹتے، اپنا سینہ و رخسار اس پر رکھتے ہوئے اور ہاتھ اونچے کر ک
جواب : سونے کا پرنالہ جو رکنِ عراقی اور رکنِ شامی کی درمیانی دیوار کی چھت پر نصب ہے۔ اسے خانہ کعبہ کا پرنالہ یعنی میزابِ رحمت کہا جاتا ہے۔
جواب : بیت ﷲ شریف کی شمالی دیوار کی طرف زمین کا ایک حصہ، جس کے ارد گرد قوسی کمان کے انداز کی ایک چھوٹی سی دیوار بنا دی گئی ہے، اُسے حطیم کہتے ہیں۔ اس کے دونوں طرف آمد و رفت کا دروازہ ہے۔ اس حصہ زمین کو طواف میں شامل کرنا
جواب : رکنِ یمانی و شامی کے درمیان غربی دیوار کا وہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے، مستجار کہلاتا ہے۔
جواب : رکنِ یمانی اور رکن اَسود کے درمیان جنوبی دیوار ہے۔ یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لئے مقرر ہیں۔ اس لئے اس کا نام مستجاب رکھا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ وُکِّلَ بِه يعنی بِالرُّکْنِ ال
جواب : مقام ابراہیم دروازہ کعبہ کے سامنے ایک قبہ میں وہ مقدس پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے کعبۃ اللہ کی تعمیر کی۔ آپ کے قدم مبارک کا اس پر نشان پڑ گیا جو اب تک موجود ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَاِ
جواب : آب زمزم مکہ معظمہ کا وہ کنواں ہے جس کا پانی پینا ثواب اور بہت سی بیماریوں کے لئے باعث شفا ہے
جواب : باب الصّفا مسجد حرام کے جنوبی دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے
جواب : باب السّلام مسجد حرام کا ایک دروازہ ہے۔ فتح مکہ کے موقع پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی دروازے سے مسجد حرام میں داخل ہوئے تھے۔ اس کا نام اب ’’باب الفتح‘‘ رکھ دیا گیا ہے
جواب : کعبۃ ﷲ سے جنوب کی سمت ایک پہاڑی ہے، جہاں سے سعی شروع ہوتی ہے، اسے صفا کہتے ہیں۔ یہ پہاڑی تعمیری اضافہ جات کے باعث اب زمین میں چھپ گئی ہے اور اب وہاں قبلہ رخ ایک دالان (برآمدہ) سا بنا ہے اور اوپر چڑھنے کے لئے سیڑھی
جواب : کعبہ کے قریب شمال مشرق کی سمت ایک پہاڑی ہے، جہاں سعی ختم ہوتی ہے، اسے مروہ کہتے ہیں۔ یہ بھی تعمیری اضافہ جات کے باعث اب زمین میں چھپ چکی ہے۔ یہاں بھی اب قبلہ رخ دالان اور سیڑھیاں ہیں۔ صفا سے مروہ کو جاتے ہوئے بائی